ARTICLES

Imagine yourself in a thriving and satisfying
career,doing what you love and helping
others to advance personality and
professionally.

03 DEC

Ways To improve Children's intelligence

بچے کو ابتدا ہی سے سیکھنے سکھانے پر لگائیے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر رونالڈ فرگوسن کا کہنا ہے کہ جو والدین اپنے بچوں کو شیرخوارگی ہی سے سیکھنے پر لگادیتےہیں، وہ بڑے ہوکر زیادہ سیکھتے اور زیادہ ذہین ہوتےہیں۔ البتہ، سیکھنے کا یہ عمل روایتی اور باقاعدہ نہیں ہونا چاہیے، کیوں کہ اس طرح بچے بیزار ہوجاتے ہیں۔ اس کی بجائے بچوں کو ایسی دلچسپ سرگرمیوں میں مشغول کرنا چاہیے جن سے بچوں میں ذمے داری کا احساس بڑھے، اسٹریس کم ہو، بولنے اور گھلنے ملنے کے مواقع زیادہ ملیں اور سوچنے سمجھنے پر بچہ مجبور ہوجائے۔ایسے بچے سیکھنے کو پسند کرتےہیں اور اپنے تئیں مسابقت میں شرکت کیلئے ہمہ دَم تیار رہتے ہیں۔
بچوں کے ساتھ مل کر غیر نصابی کتابیں پڑھئے۔ نصابی کتابوں کا دور تو ڈھائی تین برس کی عمر کے بعد آتا ہے۔ اپنے بچے کو باتصویر کہانیاں لاکر دیجیے اور اس کے ساتھ کسی وقت مختص کرکے بیٹھئے اور پھر ان کتب میں تحریر شدہ کتابیں پڑھئے۔ یوں، بچوں میں کئی قسم کی خوبیاں پیدا ہوں گی۔ اول، انھیں کتابوں سے محبت ہوگی جو کسی بھی کامیاب فرد کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ دوسرے، اسے زبان کا شعور آئے گا۔ تیسرے، بچے کی معلومات محض نصابی کتابیں پڑھنے والے بچوں سے کہیں زیادہ ہوگی۔ کتابیں پڑھنے والے بچے بڑے ہوکر بھی کتابوں کے شوقین ہوتےہیں اور ان کے اندر فیصلہ سازی اور معاملہ فہمی کی اہلیت عام لوگوں سے کہیں بہتر ہوتی ہے۔
کتب بینی کے فوائد لامتناہی ہیں۔ یہ وہ خوبی ہے جو خا ص کر آج کل بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ جو بچے زیادہ کتابیں پڑھتے ہیں، ان میں زیادہ جاننے کا جذبہ بڑھتا ہے۔ یوں، وہ دوسرے بچوں سے کہیں آگے نکلتے ہیں۔ جو بچے نصابی کتابوں کے علاوہ غیر نصابی مگر معلوماتی کتابیں پڑھتے رہتے ہیں، انھیں اپنے نصابی مضامین بھی اچھے سمجھ آتے ہیں، کیوں کہ وہ ایک موضوع یا مضمون کو کئی طریقوں سے سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ یوں، ان کی دلچسپی اپنی تعلیم میں بھی بڑھتی ہےا ور ذہانت میں اضافہ ہوتا ہے۔
بچے سے روزانہ کچھ وقت کیلئے گفتگو ضرور کیجیے۔ یوں، بچے کی زبان دانی کی مہارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ نیز، بچے اور اس کے ماں باپ کے درمیان ذہنی اور جذباتی فاصلے کم ہوتےہیں۔ مطالعات بتاتے ہیں کہ جو بچے گھر میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے زیادہ بولتےہیں، ان کی دماغی سرگرمی اور لسانی اہلیت بہت بہتر ہوتی ہے۔ بچے سے مختلف سوال کیجیے اور پھر اس کے سوال کا انتظار کیجیے۔ بچے سے ہنسی مذاق اس گفتگو کا لازمہ ہے۔ اس سے بچے محظوظ ہوتے ہیں اور خود کو آئندہ زندگی میں بھی محفوظ سمجھتے ہیں۔
بچے کے ساتھ کھیل کود میں شامل ہوجائیے۔ میں نے بعض والدین کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے پانچ دس سالہ بچے کے ساتھ گلی میں کرکٹ کھیلتے ہیں۔ جو والدین اپنے بچوں کے ساتھ بچہ بن کر اُن کے کھیلوں میں شریک ہوتے ہیں، بچے ایسے والدین پر اعتماد کرتے ہیں۔ سائنسی مطالعات کے مطابق، جن چھوٹے اور ننھے بچوں کو ان کے والدین کی توجہ نہیں ملتی، وہ ڈپریشن میں زیادہ مبتلا رہتے ہیں۔ اس عمر میں ڈپریشن کا مطلب ہے، آئندہ برسوں میں کندذہنی۔ انھی مطالعات سے یہ نتائج بھی ملتے ہیں کہ جن بچوں کو اُن کے والدین زیادہ گود میں لیتے، گلے لگاتے، ہنسی مذاق کرتے، شاباشی دیتے ہیں، وہ بچے زیادہ ذہین اور مرکوزِ توجہ ہوتےہیں۔ ایسے بچے اپنی تعلیم اور دیگر علمی سرگرمیوں میں بھی خوب حصہ لیتے ہیں۔
بچے کیلئے مہنگے کھلونے کی بجائے تجسس انگیز کھلونے کا انتخاب کیجیے۔ والدین کی یہ بڑی غلط فہمی ہے کہ وہ بچے کو جتنا مہنگا کھلونا دلائیں گے، بچہ اتنا ہی خوش ہوگا۔ حالانکہ بچے کو مہنگے اور سستے کا تو شعور ہی نہیں ہوتا۔ بچہ فطرتاً وہ کھلونا زیادہ پسند کرتا ہے جس میں اسے تجسس زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ یعنی اسے سیکھنے اور کھوجنے کے مواقع جس کھلونے میں زیادہ ملیں گے، بچہ انھی کھلونے کی طرف راغب ہوگا۔
آپ نے دیکھ اہوگا کہ آپ نے اپنے بچے کو ایک بہت قیمتی کھلونا لاکر دیا۔ اگلے دن اس نے ایک اور بچے کے پاس بالکل سستا سا کھلونا دیکھ لیا تو وہ اپنا بہت مہنگا کھلونا ایک طرف پھینک کر دوسرے بچے کے سستے کھلونے سے کھیلنے کی تگ ودَو میں لگ جائے گا۔
بچے کی ذہانت بڑھانے کیلئے زیادہ تر والدین بچے کو ہر وقت پڑھنے پڑھانے میں لگائے رکھتے ہیں۔ یہ والدین کی غلط فہمی ہے۔ بچے کی ذہانت اسکول میں یا نصابی کتابیں پڑھنے سے زیادہ کھیل کود سے بڑھتی ہے، کیوں کہ اس طرح بچہ ایک کام مختلف انداز سے کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ ایک کام کئی انداز سے کرنے سے مزاج میں لچک پیدا ہوتی ہے اور تخلیقی صلاحیتیوں میں نکھار آتا ہے۔ ایسے بچوں کی عقلی قابلیت کے علاوہ ان کی جذباتی، سماجی اور جسمانی مہارتیں بھی پروان چڑھتی ہیں۔ کھیل کود بچے کے وقت کا زیاں نہیں، آپ کے بچے کی ہر لحاظ سے نمو اور بہتری کا بہت ہی موثر ذریعہ ہے۔
بچے کو صبح سویرے ورزش پر بھی مائل کیجیے۔ ورزش کرنے سے صرف بچے کی جسمانی صحت ہی بہتر نہیں ہوتی، بلکہ اس کی عقلی اور فہمی صلاحیتیں بھی پروان چڑھتی ہیں۔ ورزش کرنے سے دماغ میں خون کا بہاؤ بڑھتا ہے اور دماغی خلیوں کو زیادہ آکسیجن ملتی ہے۔ ورزش کرنے والے بچے زیادہ پُراعتماد ہوتےہیں اور اس بات سے تو آپ اتفاق کریں گے کہ خوداعتمادی وہ واحد سب سے اہم خوبی ہے جو کسی بھی فرد کو کسی بھی شعبے میں آگے بڑھنے کیلئے درکار ہوتی ہے۔
بچے کی تخلیقی صلاحیت بڑھانے کی تدابیر اختیار کیجیے۔ آرٹس، سائنس کی تعلیم اور کسی بھی قسم کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے تخلیقیت ایک اہم شخصی خوبی مانی جاتی ہے۔ اگرچہ بچے فطرتاً سوچنے اور سمجھنے اور کچھ نیا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، تاہم اگر والدین انھیں گھر میں ایسے مواقع بھی فراہم کردیں کہ جن سے ان کی تخلیقیت کو جِلا ملے تو وہ کہیں سے کہیں نکلنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
بچے میں تخلیقیقت بڑھانے کے چند طریقے یہ ہوسکتے ہیں کہ انھیں ادبی اور سائنسی کتابیں پڑھنے کو دی جائیں، معمے حل کرائے جائیں، گھر کے کام کاج کرائے جائیں، خاص کر اگر کوئی گھریلو کام اٹک جائے تو انھیں بھی اس میں شامل کرکے اسے حل کرنے کی تدبیر سوچنے کا کہا جائے۔
آپ ماں ہیں یا باپ، گھر میں جب معمول سے ہٹ کر کچھ کرنے لگیں تو بچے کو وہ کام کرتے ہوئے دیکھنے کا موقع دیجیے۔ بچہ والدین سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ اپنے بچے کو دکھائیے کہ آپ کیا کیا تخلیقی کام کرتے ہیں اور کیسے کرتے ہیں۔
ٹی وی دیکھنے کے وقت کو محدود کیجیے۔ کیوں کہ ٹی وی بچوں کی تخلیقیقت کو بری طرح کچل دیتا ہے۔ دو برس کی عمر سے پہلے تو بچے کو ٹی وی کی پرچھائیں بھی پڑنی نہیں دینی چاہیے۔ بعد کی عمر میں زیادہ سے زیادہ بچے کو نصف گھنٹہ ٹی وی دیکھنے کی اجازت ہو، اور وہ بھی صرف بچوں کے مخصوص پروگرام۔
جب والدین کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے تو وہ ایک سوال یہ کرتےہیں کہ اگر ہم اپنے بچوں کو ٹی وی دیکھنے نہیں دیں گے تو وہ اس وقت میں کیا کریں گے۔ میرا جواب ہوتا ہے کہ یہ سوال والدین کی نااہلی کی علامت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ والدین کے پاس وہ کام ہی نہیں کہ جن میں وہ اپنے بچوں کو مصروف کرسکیں۔ یہ سوال زیادہ تر وہی والدین کرتے ہیں جو خود کئی کئی گھنٹے ٹی وی کے آگے گزاردیتے ہیں اور پھر گلہ کرتےہیں کہ وقت نہیں ملتا۔
بچے کو ٹی وی سے دور رکھنے کیلئے پہلے تو والدین کو اپنے معمولات سے ٹی وی کو کم کرنا یا نکالنا ہوگا۔ کیسے؟ ماں اور باپ کی حیثیت سے اپنی ترجیحات کے مطابق طے کیجیے۔

LEAVE A REPLY

YOU MAY ALSO LIKE

بچے کو اسمارٹ کمپیوٹر گیم (ایکس باکس یا پلے اسٹیشن) کھیلنے کیلئے دیجیے۔ اس سے بھی فہم و...
The Key To Success

12 NOV 2021

Who is The Best Man?

12 NOV 2021