ARTICLES

Imagine yourself in a thriving and satisfying
career,doing what you love and helping
others to advance personality and
professionally.

30 NOV

Ways To improve Children’s intelligence (Part 2)

بچے کو اسمارٹ کمپیوٹر گیم (ایکس باکس یا پلے اسٹیشن) کھیلنے کیلئے دیجیے۔ اس سے بھی فہم و ادراک کی اہلیت بڑھتی ہے۔ تاہم، یہاں بھی یہ بہت ضروری ہے کہ یہ کمپیوٹر گیم ایک حد تک ہوں۔ اس کی ایک موثر تدبیر یہ ہے کہ بچے کے معمولات میں سے صرف تیس منٹ روزانہ اس کے کمپیوٹر گیم کیلئے مختص کیے جائیں۔ ان اوقات میں کمی یا زیادتی نہ کی جائے اور باقاعدگی سے اس نظامِ اوقات پر عمل کرایا جائے۔
اگر بچے کو کسی ضابطے اور حدود کے بغیر ہی کمپیوٹر گیم کھیلنے کی اجازت دی جائے گی تو اس کے فوائد ہونےکی بجائے جذباتی، جسمانی اور ذہنی نقصان ہی ہوگا۔
بچے کو بیزار (بور) ہونے دیجیے۔ شاید آپ کو حیرت ہوئی ہو، جولیا روبنسن جو انڈیپنڈنٹ ایسوسی ایشن آف پریپ اسکولز کی ڈائرکٹر ہیں، کہتی ہیں کہ بچہ اگر کبھی کبھار بیزار ہونے لگے (کسی بھی وجہ سے) تو اسے بور ہونے دیجیے۔ یوں، بچہ اپنی بڑی عمر کے مسائل کیلئے تیار ہوگا۔ دراصل، چھوٹا بچہ تو چونکہ والدین کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کے والدین ہمہ وقت اس کیلئے تدابیر کرتے رہتےہیں، لیکن جب آدمی عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو کم از کم اکیاون فیصد واقعات و تجربات آدمی کی مرضی کے خلاف ہوتے ہیں۔ ایسے میں، اگر بیزاری جھیلنے کی عادت نہ ہو تو یہ لوگ شدید جذباتی بحران کا شکار ہوجاتے ہیں۔
بچے کو ناکام ہونے دیجیے۔ آپ نے یہ بات تو سن رکھی ہوگی کہ ناکام لوگ ہی کامیابی پاتے ہیں۔ جو والدین اپنے بچے کو ہر قسم کی سہولت فراہم کرتے ہیں، وہ بچے کبھی ناکامی کا منھ نہیں دیکھتے تو ایسے بچے عملی زندگی میں ناکامی کا سامنا کرلیں تو فوراً ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔
آپ کے بچے کی تربیت بچپن سے ایسی ہونی چاہیے کہ وہ یہ فطری حقیقت جانتا اور مانتا ہو کہ وہ ہر بار کامیاب نہیں ہوسکتا؛ وہ جو کچھ چاہتا ہے، سب کچھ پا نہیں سکتا۔ اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ناکامیاں اس دنیا کے پروسیس کا ایک لازمی حصہ ہیں۔
بچے کو اپنے مسائل تنہا حل کرنے کے مواقع دیجیے۔ بچے کے ساتھ اُس کے مسائل (خواہ ان کی نوعیت تعلیمی ہو یا سماجی) ہر بار حل کرنے میں مدد نہ کرنے بیٹھ جائیے۔ یقیناً بچے کی تربیت میں والدین کا تعاون بہت اہم ہوتا ہے، لیکن اگر آپ اسے ہر کام میں ہاتھ بٹانا شروع کردیں گے تو وہ آئندہ زندگی میں بھی آپ ہی کی طرف دیکھے گا۔ وہ کوئی مسئلہ حل کرنے کی جرات خود کرنے سے پہلے چاہے گا کہ آپ سے مدد لے۔ خود اپنے بچے کی مدد ہر بار کرنے کیلئے کھڑا ہونے کی بجائے اسے ترغیب دیں کہ وہ یہ مسئلہ خود حل کرے۔ اگر کئی کوششوں کے باوجود وہ اپنا مسئلہ حل نہ کرپائے یا بہت جز بز ہوجائے، تب اس کی معاونت کیلئے آگے بڑھا جاسکتا ہے۔
بچے سے منفی جملوں میں بات سے حتی الامکان گریز کیجیے۔ منفی جملے سوچ کو محدود کرتےہیں اور محدود سوچ رکھنے والوں کی عقل بھی کم ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہ اپنی سوچ کی حدود ہی میں رہ کر غور و فکر کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اکثر حل تک نہیں پہنچ پاتے اور پھر پریشان رہتے ہیں۔ بچے کے سامنے مثبت اور تعمیری گفتگو کرنے سے اُس کے اندر تعمیری مزاج پروان چڑھے گا اور یوں وہ مسائل کے حل تلاش کرنے کے قابل ہوگا۔
بچے کی دماغی صحت کیلئے موزوں غذائیں کھلائیے۔ جدید تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہم جو غذائیں روزمرہ زندگی میں کھاتے ہیں، وہ ہمارے جسم کے ساتھ ہمارے دماغ پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، امریکا کے معروف ایمن کلینک میں پچیس لاکھ افراد کے اسکین سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ جو لوگ شکر کا استعمال زیادہ کرتے ہیں، وہ کند ذہن ہوتے ہیں۔ ایسے ہی حیاتین و معدنیات سے متوازن غذائیں بچے کی سوچ کو جلا بخشتی ہیں۔
دماغی صحت کا بہ راہِ راست تعلق انسان کی عقل و فہم سے ہے۔ لہٰذا، بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے بچے کو جو غذائیں دیں، آپ کو معلوم ہو کہ وہ اس کے دماغ پر کیا اثرات مرتب کریں گی۔ یہ معلومات اگر آپ کو نہیں تو یہ عذر ناقابل قبول ہے۔ اس کا آسان طریقہ ہے کہ یہ سوال گوگل کریں یا پھر بازار سے اس موضوع پر جو کتابیں دست یاب ہیں، وہ خرید کر پڑھیں۔ اُردو میں اس موضوع کئی کتابیں آپ کو مل جائیں گی۔
ایک آسان نکتہ یہ سمجھ لیجیے کہ تازہ پھل اور سبزیاں دماغی صحت کو بہت بہتر کرتی ہیں۔ جبکہ بازاری کھانے، خاص کر جنک فوڈز دماغ کو منجمد کردیتے ہیں۔
بچے کی کافی نیند کو یقینی بنائیے، کیوں کہ نیند کی کمی بہ راہِ راست انسانی ذہن کی صلاحیتوں پر کمزور کرتی ہے۔ طلبہ و طالبات کے سیکڑوں مطالعات سے یہ پتا چلا کہ جن بچوں کی رات کی نیند کم رہتی ہے، امتحان میں ان کا گریڈ بھی کم ہوتا ہے۔ اگر بچہ کئی ہفتے اپنی کافی نیند پوری نہ کرپائے تو اس کے ساتھ بہت سے ذہنی اور جسمانی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
بچے کو صبر و تحمل سکھائیے۔ یہ انسانی زندگی میں کامیاب لوگوں کی بہت بڑی خوبی ہے، لیکن موجودہ دَور میں یہ خوبی بہت تیزی سے کم ہوتی جارہی ہے۔ اس میں ایک بڑا عامل تیز رفتار ٹکنالوجی ہے۔ ہم جیسے فٹافٹ موبائل ایپس ڈائونلوڈ کرلیتے ہیں، ایسے ہی چاہتے ہیں کہ زندگی کا ہر کام بن جائے۔ لیکن، قوانین فطرت کے تحت تو ہر شے کو تکمیل کیلئے مخصوص وقت درکار ہوتا ہے۔ اور جب ہم قوانین فطرت کے خلاف چاہتے ہیں تو ہمارے اندر بے چینی پیدا ہوتی ہے اور یہ بے چینی اضطراب سے بڑھ کر مایوسی تک پہنچاسکتی ہے۔
اکیسویں صدی کے تیز رفتار اور شدید مقابلے کے دَور میں صبر و تحمل کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔
بچے کو سخت محنت کا عادی بنائیے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے تو اب تک یہی سنا ہے کہ بچے کی تھوڑی سی کوشش پر بھی اس کی حوصلہ افزائی کی جائے… اور یہاں آپ اس کی الٹ بات کہہ رہے ہیں۔ یہاں ایک نکتہ یہ سمجھنے کا ہے کہ اگر آپ ہر چھوٹی موٹی کوشش پر اُس کی حوصلہ افزائی کرتے رہے تو اس بات کا خطرہ ہوگا کہ وہ معمولی کوشش ہی کو سب کچھ سمجھنے لگے اور مزید کوشش کی جرات کرنا ہی چھوڑدے۔ یاد رکھیے، معمولی کوشش کی حوصلہ افزائی ابتدا میں بہت مفید ہوتی ہے، لیکن ’’نتیجہ‘‘ اصل ہے۔ اگر بچہ کوشش کرتا رہے اور نتیجہ کچھ نہ نکلے تو اس کوشش کی کوئی وقعت نہیں ہوگی۔ دنیا نتیجہ مانگتی ہے، کوشش کی کوئی قدر نہیں ہے۔
اس لیےبچے کو تین برس کی عمر کے بعد آہستہ آہستہ بار بار کوشش کرنے کی طرف راغب کیجیے۔ اسے بتائیے کہ بار بار کی کوشش ہی سے کوئی نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے۔ آپ اسے اس سلسلے میں، تیمور کی چیونٹی کا قصہ سناسکتے ہیں یا تھامس ایڈیسن کے بلب کی ایجاد کے دوران دس ہزار کوششوں کی مثال دے سکتے ہیں۔
بچے میں نموآور مزاج (گروتھ مائنڈ سیٹ) کی آب یاری کیجیے۔ نمو آور مزاج کے بارے میں اس کتاب میں الگ سے مکمل تحریر شامل کردی گئی ہے۔ اس تحریر میں دیے گئے مشوروں پر عمل کرکے آپ اپنے بچے میں نمو آور مزاج کی تشکیل کرسکتے ہیں۔

3.9KAdnan Dani, Muhammad Ahtisham and 3.9K others76 comments1K sharesLikeCommentShare

LEAVE A REPLY

YOU MAY ALSO LIKE

انسانوں سے بھیک، اللہ سے فضل ملتا ہےحضرت بابا بلھے شاہؒ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو پوجا ...
The Key To Success

12 NOV 2021

Who is The Best Man?

12 NOV 2021