ARTICLES

Imagine yourself in a thriving and satisfying
career,doing what you love and helping
others to advance personality and
professionally.

12 NOV

Who is The Best Man?

بہترین انسان کون؟ زندگی میں اپنے سے جڑُے اچھے اور بہترین لوگوں کو کبھی آزما نا نہیں چاہیے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہیرے کی مانند ہوتے ہیں۔ ٹھوکرلگنے سے ٹوٹتے نہیں بلکہ پھسل کر دور چلے جاتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے بہترین انسان کون ہوتا ہے؟ عموماً بہترین اوراچھا انسان اُسے تصوّر کیا جاتا ہے جس کا تاثر لوگوں کے ذہنوں میں مثبت ہو، جس کو شریف النفس بھی کہا جاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ تہذیب و تمدن میں بہت پیچھے رہ گیا ہے اور اس کاتہذیبی ارتقاء بہت آہستہ ہے۔ اگر تہذیب کا کوئی پیمانہ بنایا جائے تو اس حوالے سے قوم کی حالت بہت عجیب ہے۔ دن بدن لوگوں کے روّیوں میں شدت آتی جارہی ہے۔ شریف النفس انسان کی پہچان اُس کا روّیہ ہو تا ہے جو اب ناپید ہوتا جا رہا ہے۔بہترین انسان کے موضوع پر بہت اچھی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔انہی تحقیقات پر مبنی چند خوبیاں جو ایک بہترین انسان میں موجود ہونی چاہئیں یہاں بیان کی گئی ہیں۔ بہترین انسان ہمیشہ دوسروں کے کاموں کی حوصلہ افزا ئی کرتا ہے۔ اگر کسی نے اچھا کام کیاہے ، اچھا پہنا ہے ، کسی کا انداز اچھا ہے ، کسی کے پاس خوبصورتی ہے، کام کرنے کا اسلوب اچھا ہے تووہ اس کی تعریف اور حوصلہ افزائی ضرور کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں تہذیب ، تمیزاور آداب اس لیے ختم ہو تے جا رہے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں شکریہ اور حوصلہ افزائی کم ہوتی جا رہی ہے۔ اپنے سے جڑے ہوئے چھوٹے لوگوں کی حوصلہ افزائی ضرور کرنی چاہیے۔ وہ شخص جوآپ کو روز پانی اور چائے پلائے اُس کی تعریف ضرور کرنی چاہیے۔ اس کے بارے میں کچھ اِس طرح حضرت واصف علی واصف ؒفرماتے ہیںکہ اگر آپ اپنے ساتھ جڑے ہوئے چھوٹے چھوٹے لوگوں کو عزت دیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کی عزت اورمقام و مرتبے کو قائم رکھے گا۔ شریف النفس انسان ’’شکریہ‘‘ اور ’’مہربانی‘‘ جیسے الفاظ کا بہت استعمال کرتے ہیں۔اور آنکھوں میں آنکھیں ملا کر با اعتماد انداز میں دوسروں کوسلام کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سلام تو کر تے ہیں لیکن ان کی توجہ کہیں اور ہوتی ہے۔ بعض سلام کرتے وقت اس طرح ہاتھ ملاتے ہیں کہ اگلا بندہ تکلیف محسوس کرتا ہے۔ بعض صرف نام کا ہاتھ ملاتے اوربعض ہاتھ ملانا پسند ہی نہیں کرتے۔لیکن شریف النفس یا جنٹلمین ہمیشہ سلام میں پہل کر تے ہیں۔ اگر سلام میں پہل نہ کرسکیںتو پوری توجہ سے جواب دیتے ہیں۔ ہاتھ ملاتے ہوئے محسوس کراتے ہیں کہ جیسے اس کا کوئی خاص تعلق ہو۔ ایک تحقیق کے مطابق ہاتھ ملانے سے پوری شخصیت معلوم ہو جاتی ہے۔ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو چہرے کو دیکھ کر پوری شخصیت کو معلوم کر لیتے ہیں۔ جو بندہ گرم جوشی سے ملتا ہے ۔اس کے کام بھی زیادہ ہوتے ہیں اور اس کا سوشل حلقہ بھی زیادہ ہوتا ہے ۔ ملنے کے مختلف انداز ہیں۔ ہر موقع محل کا اپنا ایک انداز ہے۔ اگر زیادہ لوگ ہوں تو ہاتھ ملانے کی بجائے بہتر ہے کہ سب کو ایک ہی دفعہ سلام کیا جائے۔ اگر بات چیت نہ ہو رہی ہو تو بہتر ہے کہ سب کے ساتھ ہاتھ ملایا جائے۔ اگر کسی کے ساتھ اچھا تعلق ہو تو بہترہے اس کے ساتھ گلے ملا جائے۔ ایسے لوگوں کو اگر کوئی تحفہ دے تو وہ اس کا شکریہ ضرور ادا کرتے ہیں ۔ اسی طرح اگر کوئی آپ کی زندگی میں بھی کسی ویلیو کا اضافہ کرے تو اس کا شکریہ ضرور ادا کریں۔ حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں: ’’سخی وہ ہے جس کے پاس مال ہے لیکن مال کی محبت نہیں ہے۔‘‘ یعنی وہ پیسہ سے زیادہ لوگوں کی قدر کرتے ہیں۔ دوسروں کے ساتھ اچھا برتائو کرتے ہیں، نہ صر ف تحفہ قبول کرتے بلکہ تحائف دیتے بھی ہیں۔ جس کے پاس مال ہو لیکن مال کی محبت نہ ہو کا مطلب بھی یہی ہے کہ دوسروں پر پیسہ لگانا جانتے ہیں۔ تحفہ کی اہمیت اس حدیث شریف سے بھی ظاہر ہوتی ہے : ’’ تحفہ دینے سے محبت بڑھتی ہے‘‘۔ (صحیح البخاریـ) تحفہ بندے کے تعلقات کو مضبوط کرتا ہے تحفہ دینے والا محسوس کراتا ہے کہ آپ مجھے مال و دولت سے زیادہ قیمتی ہواور میں آپ کی بھرپور عزت کرتا ہوں ۔یوں ایک معمولی عادت سے خوش گوارماحول بن جاتا ہے۔

LEAVE A REPLY

YOU MAY ALSO LIKE

بچے کو اسمارٹ کمپیوٹر گیم (ایکس باکس یا پلے اسٹیشن) کھیلنے کیلئے دیجیے۔ اس سے بھی فہم و...
The Key To Success

12 NOV 2021