BLOGS

Imagine yourself in a thriving and satisfying
career,doing what you love and helping
others to advance personality and
professionally.

24

NOV

انسان اللہ کی پسندیدہ اور اعلی مخلوق پھر اس پہ مصائب کیوں ؟

By Zohaib In Blogs

انسان اللہ کی پسندیدہ اور اعلی مخلوق پھر اس پہ مصائب کیوں ؟
سوال ۔انسان اللہ کی پسندیدہ مخلوق ہے مگر پھر بھی یہ حادثات و سانحات کا شکار ہوتا ہے ،اس کی وجہ کیا ہے ؟
محترم سرفراز شاہ صاحب
رب تعالی نے ایک بات فرمائی ہے کہ انسان پر کوئی مصبیت نہیں آتی ماسوائے اس کے ہاتھ کے ۔بھلا ئیاں اور رحمتیں سب اللہ کی جانب سے ہیں اور مصبیتیں انسان کی اپنے ہاتھ سے کمائی ہو ئی ہیں ۔یہ بات بالکل درست ہے کہ رب تعالی نے انسان کو سب سے اعلیٰ مخلوق تخلیق کیا ۔بلکہ میں کہو ں گا کہ بے شک انسان اعلی تخلیق تو ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان رو ح زمین پر رب تعالی کا نائب بھی ہے ۔رب تعالی قادر مطلق ہے ،انسان بہت زیادہ حرص ہے وہ ہر چیز اپنی پلیٹ میں جمع کرنا چاہتا ہے اس کے باوجود اللہ انسان کو کا فی اختیارات عطا کرتا ہے ۔رب بہت منصف ہے تو اس نے اپنے نائب کو بے اختیار تو نہیں کرنا تھا ۔رب تعالی نے انسان کے پیرا میٹر سیٹ کر دیے ہیں کہ اس کے اندر رہتے ہو ئے انسان آزاد ہے کہ وہ جو مرضی کرے ،اس پیر ا میٹر سے باہر نہ نکلیں ۔انسان اس دنیا میں آیا ہے تو رب تعالی نے ہر انسان کو تین آزادیاں عطا کی ہیں ۔ایک تو سوچنے کی آزادی ہے ،ہم آزاد ہیں جو بھی سوچیں ،دوسرا بولنے کی آزادی ہے اور تیسرا کوئی بھی عمل کرنے کی آزادی ہے کوئی فرشتہ ہمیں منع نہیں کرتا ۔یہ بالکل ایسا ہے کہ آپ اپنے ملازم کو کہیں کہ فلاں دوکان پر جاؤاور اس سے فروٹ لے کر آؤا ور فروٹ کا بھاو تاو کر وا لینا جیسے ہی وہ ملازم گھر کی دہلیز سے باہر قدم کھے گا وہ آزاد ہو گا وہ اپنی سہولت دیکھتے ہو ئے کسی اور دوکان پر چلا جاتا ہے ،جو دوکان دار نے فروٹ دیا وہ لے لیا اور پیسے بھی کم نہیں کرواتا وہاں آپ اس کو روکنے کے لیے موجود نہیں ہیں وہ آزاد ہے لیکن جب وہ واپس آئے گا اوراس نے آپ کی مرضی کے مطا بق کام کیا ہو گا تو آپ خوش ہو جائیں گے ۔ملازم نے آپ کی بات نہ مانی اور آپ کی مرضی کے خلاف کیا تو اس کی نوکری ختم ہو گئی یا پھر اس کو ڈانٹ پڑ جائے گی ۔اللہ نے پیرا میٹر سیٹ کر کے انسان کو آزادی اور اختیار بھی دے دیاتو جب ہم اللہ کے پاس واپس جائیں گے تو حساب کتاب ہو جائے گا ۔انسان سے جواب دہی نہیں ہو سکتی جب تک اس کے پاس اختیار نہ ہو تو سزا اور جزا تب ہی ہو تی ہے جب اختیار ہو تا ہے ۔یہ جو حساب کتاب کا معاملہ ہے یہ ہمارے پاس اختیار نہ ہو تا تو یہ ناانصافی ہو تی ۔انسان کو اس بارے میں احتیاط کرنا ہو گی کہ جو اللہ نے انسان کو آزادیاں دی ہیں اس کا غلط استعمال نہ کریں ۔

xUguyjhwdCBREfoO

ymKDBQIbhRWaFsH

VnHgmGOoMwscyih

eJHikVudbqoOmxUs

uboXZEQqHNpD

DQJyulzTt

LEAVE A REPLY

YOU MAY ALSO LIKE

انسان کا گمان اور اس کا مستقبلسوالشاہ صاحب !چند سال پہلے شاہ ایک کتاب آئی جس کا نام دی ...