BLOGS

Imagine yourself in a thriving and satisfying
career,doing what you love and helping
others to advance personality and
professionally.

27

NOV

احساس ہم سے کھوگیا!!

By Zohaib In Blogs

احساس ہم سے کھوگیا!!
(محمد شبیر خان)
وہ میرے سامنے پریشانی کے عالم میں بیٹھا تھا ،جبکہ میں ا س کو دلاسا دینے کے الفاظ جوڑنے کی کوشش میں تھا ۔میں نے اس کے لیے جوس منگوایااور پھر پوچھا:’’مجھے بتائیں میں آپ کے لیے کیا کرسکتا ہوں؟بھائی ! اس وقت مجھے رقم کی اشد ضرورت ہے ،بچی کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے اور گھر کے لیے کچھ راشن بھی لانا ہے۔‘‘ اس نے بے بسی سے کہا۔’’آپ پریشان نہ ہوں ، یہ رکھ لیں ۔‘‘ میں نے اندازے سے کچھ زیادہ رقم لفافے میں ڈال کر اس کو لفافہ تھمادیا۔وہ احسان مند نظروں سے میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے چلاگیا، میں نے ایک سرد آہ بھری۔یہ میرے دوست کابھائی تھا جو آج کل بے روزگاری کی وجہ سے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کررہا تھا اور میرا دوست یعنی اس کا بڑا بھائی ، وہ ایک مشہور فلاحی تنظیم کا سب سے بڑا ’’ڈونر ‘‘تھا۔

مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے سب سے بڑا نمونہ آنحضرت ﷺ کی ذات مبارکہ ہے اگر ہم سیرت طیبہ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں اس زمانے میں چندہ مانگنے والی کوئی تنظیم نظر نہیں آتی ۔مالی تعاون کے لیے اعلان ضرور ہوتاتھا لیکن جب جہاد کا موقع ہوتا ،کیونکہ اس میں وافر مقدار میں وسائل کی ضرورت ہوتی تھی۔اس زمانے میں ہمیں مسجد میں اپنی ذات کے لیے چند ے کا اعلان کرنے والا بھی کوئی نہیں ملتا۔وجہ یہ تھی کہ وہ معاشرہ احسا س سے بھرپور معاشرہ تھا ۔جس میں عشاء کی نماز کے بعد ہر شخص دیر تک مسجد میں بیٹھا رہتا اور اس کی نظریں کسی مسافر کوتلاش کررہی ہوتیں تاکہ اسے گھر لے جائے اورمہمان نوازی کا شرف حاصل کرلے۔اسی احساس ہی کا نتیجہ تھا جب گھر میں مہمان آئے تو میزبان نے چراغ بجھادیا تا کہ مہمانوں کو یہ علم نہ ہو کہ میزبان دسترخوان پر بیٹھے تو ہیں مگر ان کے ہاتھ کھانے سے رُکے ہوئے ہیں ،کیونکہ کھانا کم تھا۔اسی احساس کی ایک عظیم مثال ہمیں جنگ یرموک میں زخمی ہونے والے ایک صحابی کی ملتی ہے جس کا چچا زاد بھائی حذیفہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس کے پاس آیا اور پانی کا چھاگل اس کے منہ سے لگایا مگر قریب ہی کسی زخمی کی آوازآئی ۔پہلے زخمی نے اپنے حصے کا پانی اس کی طرف بھیج دیا ۔ دوسرے زخمی نے جیسے ہی چھاگل کو منہ لگایا تو ایک اور زخمی نے پانی کے لیے آواز لگائی ، اس نے پانی والے سے کہا :اس زخمی کو پانی پلاؤ ،ہوسکتا ہے وہ مجھ سے زیادہ زخمی اور پیاسا ہو۔حذیفہ اس کے پاس پہنچا تو وہ شہید ہوچکا تھا ۔ وہ دوسرے زخمی کے پاس آیا تو وہ بھی شہید ہوچکا تھا ۔وہ جلد ی سے اپنے چچا زاد بھائی کے پاس آیا لیکن اس کی روح بھی پرواز کرچکی تھی۔

یہ احساس صرف ایک عام فرد میں ہی نہیں تھا بلکہ خلیفہ وقت کا جذبہ سب سے بڑھ کر ہوتا تھا اور اسی جذبے کا مظہر تھا کہ وہ اپنے کندھوں پر راشن لادکر بیوہ کے گھر چھوڑ آتے ہیں۔آج ہمارے پاس وسائل اس زمانے سے بے حد زیادہ ہیں ۔سہولیات کی فراوانی ہے لیکن اس کے باوجو د بھی اس معاشرے میں فقر زیادہ ہے ،محتاج بے شمار ہیں اور ہر تیسرا شخص غربت کا مارا ہے ،جبکہ کئی سارے سفید پوش ایسے ہیں جن کی خودداری نے ان کی زبان بند کی ہے وگرنہ وہ بڑی کسمپرسی میں زندگی گزاررہے ہیں۔

درحقیقت یہاں ہر شخص اپنی ذمہ داریوں سے فرارچاہتاہے ۔اسلام کی اصل روح جو ہمیں ملی ہے ، اس کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے مطابق نیکی کرنے کو ہم نے دین کا نام دیا ہے۔کمیونٹی سروسز یا خدمتِ خلق ایک اہم اور مقدس فریضہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس قدر بھرپورامدادکے باوجود بھی غریب طبقہ واقعتا مستفید ہورہا ہے اور دینی حکم کے مطابق ہم اپنے لوگوں کا خیال رکھ رہے ہیں؟

دین اسلام نے تو معاشرے کے ہر شخص کا لحاظ رکھا ہے حتی کہ پڑوسی کے بارے میں اتنی تاکید کی گئی کہ صحابہ کرام نے سمجھا شاید وراثت میں بھی اس کو حصے دار بنایا جائے گا۔حکم دیا گیا کہ دوسرے مسلمان کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو۔اپنے بچوں کے لیے پھل لاؤ تو اگر ہوسکتا ہے پڑوسی کو بھی دے دو، نہیں دے سکتے تو ا س کے چھلکے دور جاکر پھینکو تاکہ کسی دوسرے کے دِل میں حسرت پیدا نہ ہو۔والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ سب سے زیادہ نیکی کا حکم دیا گیا کہ خیرخواہی کے مستحق سب سے زیادہ یہی لوگ ہیں۔حضور ﷺ نے ایک لڑکے کو فرمایا:’’تم اور تمہارا مال تمارے باپ کا ہے۔‘‘

(سنن ابن ماجہ:2291)کیونکہ والد نے اپنی جوانی کے شب و روز اور اپنی طاقت خرچ کرکے بیٹے کی تربیت کی ہوتی ہے اور معاشرے کا ایک بہترین انسان بنایا ہوتا ہے ۔اس لیے بیٹے کے دِل میں کہیں یہ خیال نہ آجائے کہ مجھے یہ سب کچھ صرف میرے ہی دَم پر ملا ہے۔

صلہ رحمی کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ تمہارے اپنے محتاجی کا شکار نہ ہوں اور وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں۔زکوٰۃ اس لیے واجب کی گئی تاکہ معاشرے میں موجود غریب لوگ باعزت زندگی گزار یں ۔پھر سوال یہ ہے کہ جب دین نے اتنی تاکید سے معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ بھلائی اور اچھائی کا حکم دیا ہے اور ہم اس دین کے ماننے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں تو پھر یہاں ہاتھی کے دانت دِکھانے کے اور کھانے کے اور ، والامعاملہ کیوں چل رہا ہے ؟کہیں ہم ’’دورنگی‘‘ کے شکار تو نہیں ہوئے کہ دنیا کے دوسرے کونے میں موجود لوگوں کے لیے تومحلات تعمیر کررہے ہیں اور دِل ہی دِل میں خود کو سخاوت کا عظیم پیکر سمجھتے ہوئے نیکی کے اعلیٰ درجات پر فائر سمجھتے ہیں لیکن اپنے ہی بھائی کے مکان کی چھت ٹپک رہی ہوتی ہے، اس سے آنکھیں پھیر لیتے ہیں؟!!

دوسرے مسلمان کو راحت پہنچانے کو بہترین عمل قرار دیاگیا ہے جبکہ ہم دوسروں کے نقصان پر خوش ہوتے ہیں۔آپ ﷺ نے یقیم کے بارے میں فرمایا:
’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والاجنت میں ا س طرح ہوں گے۔(دو انگلیوں کو ملاتے ہوئے )(صحیح المسلمـ:2983) پھر سوال یہ ہے کہ معاشرے میں یتیم خانے کیوں بڑھ گئے؟ہم یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنے کے بجائے اس کو گھر سے نکالنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟سوال یہ بھی ہے کہ بے تحاشا صدقہ خیرات دینے والے معاشرے میں ہر دو قدم پر چندہ بکس کیوں نظر آرہے ہیں؟ہمارے ایمان پر ایک بڑا سوالیہ نشان یہ بھی ہے کہ ہمارے اپنے بھائی بہن ، رشتے دار اور ملازمین ہماری نیکیوں اورخیرخواہی سے محروم کیوں ہیں؟

یہ فقط سوال نہیں بلکہ وہ تازیانے ہیں جو مسلسل ہمارے ضمیروں پر پڑرہے ہیں مگر معلوم نہیں ہم کب اس حقیقت کو سمجھ پائیں گے؟ 
 

fgzScrxNBbDHmPnW

EnKiVsmzP

thFJfLPRi

yNrpmfnXUxhudYTS

HabiburRehman

Ma Sha allha ???? ???? ????

LEAVE A REPLY

YOU MAY ALSO LIKE

انسان کا گمان اور اس کا مستقبلسوالشاہ صاحب !چند سال پہلے شاہ ایک کتاب آئی جس کا نام دی ...