COLUMNS

Imagine yourself in a thriving and satisfying
career,doing what you love and helping
others to advance personality and
professionally.

YOU MAY ALSO LIKE

اے معمارِ قوم!(قلم کلامی:قاسم علی شاہ) انسان کے وزیٹنگ کارڈ پر ڈاکٹر ، پروفیسر ، چیئر م...
Leadership

10 NOV 2021

10

NOV

The World Salutes Skill

By Abid In Columns

دنیا، مہارت کو سلام کرتی ہے
(قاسم علی شاہ)
سٹیچو آف ڈیوڈ 17فٹ اونچا ماربل کا مجسمہ ہے۔اس کا وزن چھ ٹن کے قریب ہے اور کمال بات یہ ہے کہ اس کو ماربل کے ایک ہی بلاک سے بنایا گیا ہے۔اس کے بننے کی داستان بہت دلچسپ ہے اور اسی میں ایک نکتے کی بات بھی ہے ۔1464ء میں فلورینس (اٹلی) کا ایک چرچ ایک ایسا مجسمہ تیار کرنا چاہتا تھا جس کو بطورِ یادگار نصب کیا جانا تھا ۔اس مقصد کے لیے انتظامیہ نے اپنے وقت کے ایک ماہر مجسمہ ساز آگسٹینو ڈووچی کو یہ ذمہ داری دی ۔اس نے ہامی بھری ،کام شروع کیا مگر چند ہی روز بعد اس نے مزید کام کرنے سے انکار کردیا۔آگسٹینو کے بعد کوئی ماہر شخص ملا نہیں اور یوں ماربل کا یہ سانچہ دس سال تک یونہی پڑ ارہا۔خوش قسمتی سے انہیں ایک اور مجسمہ ساز اونٹینو مل گیا، اس نے کام شروع کیا مگر جلد ہی اس نے بھی یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کردیے کہ ’’یہ ماربل اچھے معیار کا نہیں ہے. بننے کے بعدیہ جلد ہی ٹو ٹ جائے گا۔‘‘ اونٹینو کے بعد کسی اور نے اس بھاری ذمہ داری کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کی اور اگلے 26 سال تک مزید یہ ماربل کسی ماہر کا انتظار کرتا رہا۔1501ء میں چرچ انتظامیہ کو ایک جوان کے بارے میں علم ہوا جس کو مجسمہ سازی کے ساتھ بھرپور لگاؤ تھا۔انتظامیہ نے اس کے ساتھ رابطہ کیا اور دونوں کے مابین مجسمہ بنانے کا معاہدہ طے پاگیا۔ جوان اپنے کام میں جت گیا۔اس نے نہ دِن دیکھا نہ رات ، ہر وقت اپنے کام میں مصروف رہا ۔ تین سال کی بھرپور کوشش کے بعد بالآخر اس کی محنت رنگ لائی اور مجسمہ تیار ہوگیا.

انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا،ٹیم آگئی اور جب انہوں نے مجسمہ دیکھا تو اس کی نفاست ، کاری گری اور مہارت کو دیکھ کر کچھ وقت کے لیے وہ بھی مجسمے بن گئے ۔ وہ حیران ہوئے کہ اس جوان نے اس قدر پرفیکٹ کام کیا گویا پتھر میں جان ڈال دی۔فوراً اس کو منظور کرلیا گیا اور جب مقررہ دِن پر اسے نصب کیا گیا تواس کو دیکھنے کے لیے پوری دنیا امڈ آئی اور اس کوہر طرف سے داد وتحسین کے الفاظ ملنے لگے۔

اس جوان کا نام مائیکل انجلیو تھا. اپنے وقت کا ایک ماہر ترین مجسمہ ساز،جس کی مہارت کو آج بھی دنیا تسلیم کرتی ہے. مائیکل انجلیو جب اپنے کام میں مصروف ہوتا تو وہ ہر چیز سے بے خبر ہوجاتا. وہ بھوک پیاس سے بے نیاز ہوجاتا ، اسے نہ کپڑوں کی فکر ہوتی نہ گرمی وسردی کا ہوش رہتا۔ وہ جب تھک ہار کر سونے لگتا تو بھی جوتوں سمیت سوتا تاکہ اٹھتے ساتھ ہی دوبارہ سے کام پہ لگ جائے ۔ ایک دفعہ جب اس نے اپنا مجسمہ مکمل کیا اور جوتے اتارنے لگا تو وہ پاؤں سے نہیں نکل رہے تھے ، کئی دِن تک پہنے رہنے کی وجہ سے وہ پاؤں سے ہی چپک چکے تھے۔

کامیابی اور مہارت متوسط یا متوازن نہیں بلکہ ایک غیر معمولی زندگی کانام ہے۔ جو بھی انسان بھیڑسے ہٹ کر چلتا ہے اور کچھ منفرد کرکے دِکھاتا ہے تو وہی کامیاب یا ایکسپرٹ کہلاتا ہے۔ سب کچھ کرتے ہوئے انسان کامیاب نہیں ہوسکتا بلکہ ایک مخصوص کام پر اپنی تمام تر توانائیاں لگانی پڑتی ہیں۔ اس کا نتیجہ پھر بڑا شاندار نکلتا ہے اورانسان جب ایک کامیابی پالیتا ہے تو تحفے میں اس کو وہ اعتماد ملتا ہے جس کی بدولت وہ دوسری کامیابی کی طرف بڑھتا ہے ۔ یوں سمجھیے کہ بڑی کامیابی پانے کے لیے آپ کے پاس پچھلی کوئی کامیابی ضروری ہے۔اچانک سے کامیابی کسی انسان کو بھی نہیں ملتی ، اس منزل کو پانے کے لیے صرف ایک ہی زادِ راہ کی ضرورت ہے اور وہ ہے :واحد چیز میں بھرپورمحنت

اس فارمولے کو
The One Thing
کہا جاتا ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان بہت سارے کام کرنے کے بجائے ایک کام کو پکڑے اور اس میں اس قدر بھرپور محنت کرے کہ اس میدان کا شہسوار بن جائے ۔دراصل ہم لوگ بہت سارے کام کرنے کی خواہش دِل میں لیے پھرتے ہیں اور جب ساری زندگی گزر جاتی ہے تو پھر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ کام تو بہت سارے کیے مگر مہارت کسی ایک میں بھی نہیں ۔اس کے برعکس اگر کوئی شخص صرف چائے بنانے میں بھی مہارت حاصل کرلے تو وہ شہر کا بڑا بزنس کرسکتا ہے۔

واحد چیزپر بھرپور توجہ
آج کے جدید ترین دور میں آپ کے سامنے دنیا کی طرف جانے والے بے شماردروازے کھلے ہیں ۔ہر دروازے میں بہت ہی خوشنما مناظر آپ کو ترغیب دے رہے ہیں ۔انسان ان کی طرف بڑھنا چاہتا ہے لیکن وہ فیصلہ نہیں کرپاتا کہ آغاز کہاں سے کرے۔جب بھی ہم عظیم لوگوں کی زندگیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک چیز واضح ہوجاتی ہے کہ ان کے پاس واحد چیز
(The One Thing)
اور واحد حکمت عملی تھی ، جس کی بدولت وہ کامیاب ہوئے ۔

جب انسان کو اپنی واحد چیز کا علم ہوجاتا ہے تو پھر اس کو ترجیح میں رکھنا اور دوسرے کاموں پر فوقیت دینا آسان ہوجاتا ہے۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہر انسان کوایک دِن میں کام کرنے کے لیے یکساں وقت ملتا ہے مگر کچھ لوگ اس وقت میں زیادہ کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کو متعین کرتے ہیں اور اپنی تمام تر توانائیاں ایک ہی چیز کے حصول پر لگادیتے ہیں۔ایک چیز پر توجہ دینے سے مراد یہ ہے کہ انسان ان تمام چیزوں کو نظر اندا ز کردے جو غیر اہم ہیں اور ان چیزوں کا انتخاب کرے جنہیں کرنا ضروری ہے۔اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ کامیاب ہونے کے لیے بہت زیادہ وقت ، محنت اور کوشش کی ضرورت ہوتی ہے ، لیکن اگر روزمرہ کے کاموں کو منظم کرلیا جائے تو پھر زیادہ مشقت کی ضرورت نہیں رہتی۔انسان کے پاس وقت اور توانائی بھرپور مقدار میں ہوتی ہے لیکن جب وہ واحد چیز کو چھوڑ کرکئی سارے کاموں پرتوجہ دیتا ہے تو پھروہ اپنی توجہ کو تقسیم کردیتا ہے اور یوں وہ کسی بھی کام کو احسن انداز میں نہیں کرسکتا۔ واحد چیز پر اپنی توجہ رکھنے والا انسان دنیاکو مختلف انداز میں دیکھنا شروع کردیتا ہے۔ ارتکاز توجہ آپ کو بہترین فیصلہ سازی کی طرف لے جاتا ہے۔جب انسان اپنے واحد کام پر توجہ دیتا ہے تو پھر آئندہ کے ترجیحی کاموں کا علم بھی اس کو ہوجاتاہے۔ایک دانشور کاقول ہے کہ’’ کامیابی کے لیے مقصد کا صرف ایک ہونا انتہائی ضروری ہے۔‘‘

پانسہ کی طاقت
The One Thing
کے مصنف گیری کیلراپنی کتاب میں اس کی مثال دیتے ہیں کہ 2011ء میں ایک فرانسیسی معالج نے پلائی لکڑی کے ایسے 8 پانسے بنائے جن میں سے ہر ایک پہلے سے 50 گنا بڑا تھا ۔پہلے کی پیمائش محض دو انچ جبکہ آخری تین فٹ لمبا تھا ۔ان کو ایک لائن میں رکھا گیا اور آزمائشی طورپر پانسوں کے گرنے کا آغاز ایک ہلکی سی جنبش سے کیا گیا۔پہلا پانسہ دوسرے پر گرا، دوسرے نے تیسرے کو گرایا ،پھر چوتھا ، پانچواں ، چھٹا ، ساتواں اوربالآخر اس عمل کا اختتام ایک پرشور دھماکے پر ہوا۔

اس تجربے سے ثابت ہوا کہ ایک جسامت کے حامل چیز کو اگر معمولی قوت مل جائے تو وہ اپنے سے بڑی جسامت والی چیز کو گراسکتی ہے ۔دوسری چیز ، تیسری کو ، تیسری چوتھی کواور یہ سلسلہ آخرتک جاری رہے گا۔اب آخر پر کتنی ہی بڑی جسامت کیوں نہ ہووہ ضرور گرے گی۔ انسان کو شاندار کامیابی بھی اچانک سے نہیں ملتی بلکہ آہستہ آہستہ ملتی ہے۔اگر کسی کام کی سمت درست ہو اور مستقل مزاجی کے ساتھ اس کو کیا جائے تو پھر بڑی کامیابی ضرورملتی ہے۔ایک کامیابی مزید کامیابی کو کھینچتی ہے لیکن کامیابی کا رازیہ ہے کہ واحد چیز پر بھرپور توجہ دی جائے۔

چند غلط فہمیاں ،جو انسان کوبھٹکادیتی ہیں
یہ تو طے ہے کہ کامیابی اسی کو ملتی ہے جوایک کام پر فوکس رکھے لیکن جب ایک عام انسان اپنی کامیابی کا سفر شروع کرتا ہے تو بہت سارے خیالات اس کے ذہن میں ایسے بھی آتے ہیں جو اس کو اپنی راہ سے بھٹکادیتے ہیں۔اس کے ذہن میں ہوتا ہے کہ میری زندگی میں موجود ہر چیز ایک ہی جیسی توجہ کی مستحق ہے، حالانکہ ہر ایک کام کا اپنا مقام اوراپنی حیثیت ہے، اب ان میں سے کون سا اہم ہے اور کون سا غیر اہم ، یہ فیصلہ کرنا انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

دوسرا خیال یہ آتا ہے کہ بیک وقت کئی سارے کام کرنے چاہییں تاکہ کامیابی جلد سے جلد مل جائے ۔یہ بھی غلط سوچ ہے۔بیک وقت دویا زیادہ کاموں کو انجام دینے کا مطلب ہے کہ کوئی بھی کام انجام نہ دینا۔انسان پھر نہ اِدھر کا رہتا ہے اور نہ اُدھر کااور نتیجہ ٹینشن کی صورت میں ملتا ہے۔

تیسرا خیال یہ آتا ہے کہ میرے کاموں کی فہرست جتنی لمبی ہوگی میں اتنا ہی کامیاب ہوں گا۔یہ بھی غلط فہمی ہے۔انسان مقدار سے نہیں معیار سے کامیاب ہوتا ہے۔لہٰذا اپنی فہرست کو مختصر سے مختصر کرنے کی کوشش کریں ۔بے شک آپ دس کام عام اندازسے کریں لیکن اگر اس کے بجائے ایک کام کو بہترین انداز میں کرلیں تو یہ کمال کی بات ہے۔

نظم وضبط کے بارے میں بھی ایک خیال انسان کو بھٹکا تا ہے کہ جب تک کوئی نئی منظم منصوبہ بندی نہ ہو تو نیا قدم نہیں اٹھانا چاہیے،یہ خیال بھی درست نہیں ۔ پرانی روٹین میں رہ کر بھی اگر نئے کام کا آغاز کیا جائے تو اس کے نتائج بہترین نکلتے ہیں۔

ہم میں سے اکثر لوگ اپنی خوشیوں کو ایک مخصوص وقت تک سنبھالتے اور ٹالتے رہتے ہیں ۔آپ نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سناہوگا کہ جب ہم ریٹائرڈ ہوجائیں گے تو فلاں فلاں کام کریں گے۔سوال یہ ہے کہ کیا اس بات کی گارنٹی ہے کہ ریٹائر منٹ تک انسان زندہ بھی رہے گا؟
وقت کسی کا انتظا ر نہیں کرتا۔لہٰذاآج ہی سے ہر چیز کو انتہاپر لے جاکر کریں اور ہر طرح کے تجربات سے لطف اندوزہوں۔

کامیابی:آپ کی سوچ کے مطابق
یہ بات یادرَکھیں کہ شانداز نتائج کے لیے بڑی سوچ کا ہونا ضروری ہے ۔ہمیشہ اعلیٰ سوچ رَکھیں ۔آپ کو کامیابی اتنی ہی ملے گی جتنی آپ کی سوچ ہوگی۔مانا کہ کامیابی کے لیے جدو جہد و محنت شرط ہے لیکن آپ کی محنت کی بنیاد بھی آپ کی سوچ پر ہی ہوگی۔یہ سوچ آپ کے عمل میں روح ڈالتی ہے اور اسی کے مطابق آ پ کو نتائج ملتے ہیں۔یہ بات ذہن میں رہے کہ کامیابی کی بنیاد وہ کام نہیں جو انسان دِن بھر کرتا ہے بلکہ کامیابی محض چند وہ کام ہیں جنہیں ہم بہترین اندازمیں انجام دیتے ہیں۔

وِل راجرز کہتا ہے :
’’اگر آپ درست راستے پربھی ہوں اور صرف بیٹھے رہیں تو کبھی آگے بڑھ نہیں سکیں گے۔‘‘
آگے بڑھنے کے لیے حرکت ضروری ہے لیکن ایک ہی سمت میں ، ایک ہی چیز میں اور ایک ہی سوچ کے ساتھ ۔آگے بڑھیے! اپنی واحد چیز تلاش کیجیے ،اس کو محنت کرکے پالش کیجیے اور اسی کو اپنی طاقت بنائیے ۔اس بات سے بے پروا ہوجائیے کہ دنیا میں کس چیز کا ٹرینڈ چل رہا ہے ۔اگر آپ با کمال ہوں گے تو آپ کے گرد میلا لگے گا اورپھر دنیابھی آپ کی مہارت کو سلام کرے گی۔

LEAVE A REPLY