COLUMNS

Imagine yourself in a thriving and satisfying
career,doing what you love and helping
others to advance personality and
professionally.

YOU MAY ALSO LIKE

دنیا، مہارت کو سلام کرتی ہے(قاسم علی شاہ)سٹیچو آف ڈیوڈ 17فٹ اونچا ماربل کا مجسمہ ہے۔اس ...
Leadership

10 NOV 2021

09

NOV

اے معمارِ قوم!

By Zohaib In Columns

اے معمارِ قوم!
(قلم کلامی:قاسم علی شاہ)

انسان کے وزیٹنگ کارڈ پر ڈاکٹر ، پروفیسر ، چیئر مین ،سی ای او ، ڈین وغیرہ جیسے قیمتی اور دلکش الفاظ پر مبنی تعارف لکھا ہوتا ہے لیکن آپ حیران ہوں گے جب وہ فوت ہوجاتا ہے تو پھر نہ اسے کوئی اس کے اصل نام سے بلاتا ہے اور نہ ہی پروفیسر ،چیئر مین یا سی ای او کے نام سے،بلکہ یہ تمام القابات و خطابات ختم ہوجاتے ہیں اور اس کو جو نام ملتا ہے وہ ہوتا ہے: “میت‘‘

انسان کے جنازے پر اس کا تعارف باقی نہیں رہتا بلکہ چند مخصوص جملے ہوتے ہیں جو اس کا تعارف بنتے ہیں اور انہی کے ذریعے اس کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ایک دفعہ میں کسی جنازے میں تھا وہاں ایک آدمی بہت زیادہ رورہا تھا۔ میں نے پوچھا:
’’لگتا ہے یہ آپ کا کوئی قریبی عزیز تھا ؟‘‘
وہ بولا: ’’نہیں یہ میرے استاد تھے لیکن انہوں نے میری زندگی میں ایسا کردار ادا کیا جس کا بدلہ میں نہیں دے سکتا۔ــ‘‘
پچیس تیس سال پرانی بات ہے کہ ہم ایک ٹیچر سے میتھس پڑھا کرتے تھے ۔میں نے ایک دفعہ ان سے عرض کی:
’’سر! اگرمجھے فیس میں کچھ رعایت مل جائے تومیرے لیے بڑی آسانی رہے گی ۔‘‘انہوں نے کہا :’’چھٹی کے بعد بات کریں گے۔‘‘چھٹی کے بعد جب ہم بیٹھے تو انہوں نے کہا:
’’ اگر میں ساری فیس ہی معاف کردوں تو؟‘‘میں نے کہا:’’ سر اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے؟‘‘انہوں نے کہا:’’لیکن شرط یہ ہے کہ آپ نے پھر اس کو واپس کر نا ہوگا۔‘‘میں نے کہا: ’’کیاواپس کرنا ہو گا؟‘‘انہوں نے کہا:’’ آپ نے بھی زندگی میں کسی کو اس طرح پڑھادیناہے۔‘‘میں نے کہا: ’’بالکل ٹھیک ہے ۔ اگر مجھے موقع ملا تو میں ضرور پڑھادوں گا۔‘‘

ہم اس وقت کلاس میں پانچ لڑکے تھے ۔ہمارے استاد کچھ عرصہ زندہ رہے پھر اللہ کو پیارے ہوگئے. جنازے کے وقت میں نے دیکھا تو میرے باقی چار طلبہ ساتھی بھی رورہے تھے اور ہم پانچوں کواسی دِن پتہ لگا کہ فیس ہم میں سے کوئی بھی نہیں دے رہا تھا۔

انسان کی اصل کمائی
انسان کی اصل کمائی اس کی ’’یاد ‘‘ ہے جس کے ساتھ وہ دنیا میں زندہ رہتا ہے۔بحیثیت استاد ہمیں یہ نہیں پتا ہوتا کہ چند سال بعد ہماری فزکس اور کیمسٹری کسی کو یاد نہیں رہتی بلکہ وہ رویہ یاد رہتا ہے جو ہم نے اپنے تلامذہ کے ساتھ اپنایا ہوتا ہے ۔اسٹیفن کوئے اسی کے بارے میں کہتا ہے کہ تصور کریں! آپ کا جنازہ پڑا ہے اور لوگ آپ کے بارے میں تبصرہ کررہے ہیں۔اب وہ تبصرہ کیاہوگا اس کے بارے میں آج سوچیں اور اس کے مطابق خو د کو بنائیں.

آپ دیکھیں آج کن کن اساتذہ کا ذِکر ہمیں ملتا ہے ۔آج رومی ، اشفا ق احمد اور واصف علی واصف کا ذِکر زندہ ہے ۔صرف اس وجہ سے کہ ان کا رویہ اتنا مشفق تھا، ان کامزاج اتنا خوبصورت تھا اور ان کی قربانی اتنی شاندار تھی کہ جو بھی ان سے ملا ،انہیں کا ہوکر رہ گیا

اِس دنیا میں موجود ہر انسان نے ختم ہوجانا ہے. ہر انسان دوسرے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتا ، بس پانچ دس مرلے کا فرق ہی ہوتا ہے ،چونکہ ہم نے محرومیاں دیکھی ہوتی ہیں اس لیے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مادی چیزوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھا لیا جائے۔چیزیں اور دنیاوی نعمتیں انسان کو بالآخر مل ہی جاتی ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا جو تذکرہ ہوتا ہے اس میں ایک شخص بھی یہ نہیں کہتا کہ ’’اس نے جرمنی سے پی ایچ ڈی کی ہوئی تھی،اس نے اتنی مربع جاگیر بنالی تھی یا اس کے پاس اتنی اتنی دولت تھی ،بلکہ اس وقت انسان کی قربانی، پیار اور خلوص کو ہی یاد رکھا جاتا ہے.

لیکن یہ بات بھی زیر غور رہے کہ جب تک انسان ان تمام خوبیوں کو اپنی ترجیحات میں شامل نہ کرلے ،یہ اچھائیاں اس میں پیدا نہیں ہوسکتیں۔آپ کے بعدآپ کے بارے میں الفاظ یہ ہونے چاہییں کہ آپ ایک بہترین پڑھانے والے استاد تھے۔آپ کا تجربہ شاندار تھا ۔آپ کا پڑھایا ہوا سبق ایک ہی دفعہ میں یاد ہوجاتا تھا ۔آپ کو سوال لینا اور اس کا بہترین اندا ز میں جواب دینا آتا تھا۔آپ کا قوتِ برداشت کمال کا تھا اور آپ نے صرف پڑھایا نہیں بلکہ سکھایا بھی اور کتنے سارے طلبہ نے آپ سے جینا سیکھا۔

بڑا بننے کے لیے انسپائریشن چاہیے
میں نے اپنی بیس سالہ پروفیشنل زندگی میں یہی چیز سیکھی کہ آپ نے ہر طرح کے لوگوں اور چیزوں کو برداشت کیسے کرنا ہے۔ تنقیدکیسے سننا ہے، مسائل اورمشکلات کوکس اندا ز میں حل کرنا ہے۔درحقیقت میری پرسنالٹی اور شخصیت بننے میں انہیں سب چیزوں نے میری بھرپور معاونت کی۔ میں نے کالجز ،یونیورسٹی میں پڑھایا اور ایک چیز کا تجربہ ہوا کہ اُستاد ہوتے ہوئے اگر آپ میں اعلیٰ ظرفی نہیں ہے تو آپ کے طلبہ آپ کو یاد نہیں رکھیں گے۔

آج کا ہر استاد عظیم بننا چاہتا ہے لیکن وہ اس بات سے لاعلم ہے کہ بڑا استاد بننے کے لیے بڑے استاد کی انسپائریشن چاہیے. اگر اساتذہ کی تقرری کا اختیار مجھے مل جائے تومیں اس شخص کواُستاد بالکل نہیں رکھوں گا جو کہتا ہے کہ میں کسی سے انسپائر نہیں ہوں ،کیونکہ جو انسان کسی سے انسپائر نہ ہو وہ دوسرے کو کیسے انسپائر کرے گا؟جس کے پاس کوئی معیار نہیں ،جس کے پاس کوئی مثال نہیں ،جس کے پاس کوئی ایسا رویہ نہیں ہے جس کی بدولت وہ لوگوں کے دِلوں میں زندہ رہے تو اگرچہ اس نے پی ایچ ڈی اور ایم فل کیوں نہ کرلیا ہو میرے خیال میں وہ پڑھانے کے قابل نہیں۔میں تنقیدہرگز نہیں کررہا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ استاد کو ان تمام صفات سے متصف ہونا چاہیے ،کیونکہ اس کے ذمہ قوموں کی تعمیر کا عظیم فریضہ لگایا گیاہے جو کہ انبیاء کرام کا مشن تھا، تو اب اس عظیم ذمہ داری کے لیے اپنا رویہ بہترکرنا ، اپنے آپ کو تیار کرنا اور ہر قسم کی صلاحیت وقابلیت سے بھرپور ہونا ضروری ہے۔

انسان کارویہ جب بہترین ہوتو پھر جنگل میں بھی اس کے پاس میلے لگتے ہیں لیکن اگر رویہ ہی درست نہ ہو تو پھر انسان کتنے ہی ترقی یافتہ شہر میں بیٹھ جائے ، اس کے آس پاس ویرانیاں ہی رہیں گی۔

اَساتذہ کو کن اُمور پر محنت کی ضرورت ہے
آج کے اَساتذہ کرام میں ایک بنیادی کمزوری جو دیکھی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ سوچتے نہیں ہیں۔دراصل ہم سب بنیادی طورپر آنے والے وقت کو سوچتے ہوئے ڈرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو ہمیں سوچنے کی عادت ہی نہیں۔بحیثیت قوم ہماری یہ تربیت نہیں ہوئی کہ ہم اپنا وژن ،گول ،خواب اور آنے والے وقت کے لیے بہترین لائحہ عمل بناسکیں۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ آج کے اَساتذہ کوئی نیا قدم اورنیا راستہ نہیں اپناتے۔وہ بنے بنائے ٹریک پر چلنے کو زیادہ پسند کرتے ہیں ، حالانکہ آج زمانہ ماڈرن ہوچکا ہے اور نئے دور کے نئے تقاضے ہیں۔آج کے دور میں کوئی بھی شخص جو نیاآئیڈیا رکھتا ہو ، اس کے پاس معلومات ہوں اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتا ہو تو وہ اپنے لیے ایک نیا راستا خود ہی بنالیتا ہے۔

میرے لیے یہ بڑی خوشی کی بات ہوگی اگرہمارے آج کے اساتذہ کرام پڑھانے کے ساتھ ساتھ ایک یوٹیوب چینل بھی بنالیں اور اپنی فیلڈ کے مطابق ویڈیوز بنانا شروع کردیں اور پھر کچھ عرصے بعد وہ لوگوں کو بتائیں کہ اگر چہ میرے کلاس میں شاگردوں کی تعداد 50ہے لیکن میرے آن لائن سٹوڈنٹس کی تعداد ایک لاکھ ہے۔میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ تدریس کی کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن سوشل میڈیا کی صورت میں جو ایک بہترین میڈیم ہمارے پاس ہے اس کا استعمال بھی ہونا چاہیے۔

اَساتذہ کرام کا تیسرا مسئلہ خوف ہے۔ خوف ایک ایسا مرض ہے جو انسان کے سوچنے اور اندازِ فکر کو مفلوج کردیتا ہے۔یہ اس سے جرات چھین لیتا ہے اور پھر انسان باوجود بہت کچھ جاننے کے بھی کچھ نہیں جان سکتا۔

ذہن کو لگی زنجیر
ایک دفعہ اشفاق صاحب نے مجھ سے پوچھا:’’ کیا کبھی اپنے علاقے سے باہر گئے ہو؟ ‘‘میں نے جواب دیا:’’ جی ہاں میں نے گجرات اور لاہور دیکھا ہوا ہے۔‘‘انہوں نے پھر پوچھا:’’ کبھی ملک سے باہر بھی گئے ہو؟‘‘ میں نے جواب دیا:’’ نہیں۔‘‘انہوں نے کہا:’’ کبھی زندگی میں موقع ملا اور سری لنکا گئے تو ’’پیناوالا‘‘ ضرور جانا۔‘‘ میں نے پوچھا کہ وہاں ایسا کیاہے؟ انہوں نے جواب دیا :’’وہاں ہاتھیوں کے بچوں کا یتیم خانہ ہے ۔‘‘میں نے یہ بات سنی تو اس کو اخلاقیات کے تناظر میں لے گیا کہ دنیا میں ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں کے لوگوں نے ہاتھیوں کے بچوں کے لیے یتیم خانہ تیار کیا ہے ۔انہوں نے کہا: ’’وہاں جاکر ہاتھی کا سائز دیکھنا اور یہ بھی دیکھنا کہ ہاتھی مجبور کتنا ہے؟‘‘

مجھے زندگی میں تین بار سری لنکا جانے کا موقع ملا۔ میں جب وہاں پہنچا تو ’’پینا والا‘‘ جانے کی فرمائش کی ۔میرے میزبان مجھے وہاں لے گئے ۔یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں پہلے ہاتھیوں کا شکار ہوتا تھا ،جب بڑے ہاتھی مرجاتے تو ان کے بچے ایسے ہی رہ جاتے ۔وہ انہیں پکڑ کر لاتے اور اس جگہ پر رکھ لیتے جو کہ کرتے کرتے ایک بہت بڑا آشرم بن گیا۔یہ جنگل میں ایک بڑافارم ہاوس ہے ۔ جب ہاتھی کے بچے یہاں لائے جاتے تو ان کے پاؤں سے ایک زنجیر باندھ دی جاتی اور اس زنجیر کا دوسرا سرا ایک ہک سے باندھ دیا جاتا۔وہ زور لگاتے ، زنجیر نہ کھلتی،پھرلگاتے اور مسلسل لگاتے رہتے لیکن زنجیر جوں کی توں بندھی رہتی اورپھر ایک وقت ایسا آیا کہ جو زنجیر ان کے پاؤں کو لگی تھی اب سوچ کو بھی لگ چکی تھی.

یاد رکھیں! جس استاد کے اپنے ذہن کو زنجیر لگی ہوئی ہو وہ کسی طالب علم کے ذہن کی زنجیر نہیں کھول سکتا۔اس لیے استاد کے اندر بہادری اور جرات کا ہونا بہت ضروری ہے۔استاد کے اندر اتنا ظرف ہو کہ وہ سوال سن سکے ، اپنے شاگرد کی حوصلہ افزائی کرسکے۔ اگر کسی بات کا اسے علم نہیں تو اس کے متعلق معذرت کرسکے کہ مجھے نہیں پتا۔غلطی ہوجائے تو کھلے دِل سے معافی مانگ سکے ۔اپنی سوچ و فکر کو کام میں لاکر نیا رستہ لے سکے اور دوسروں کو بھی رستہ دے سکے۔

’’پینا والا‘‘میں موجودہاتھی کے بچے اب بڑے اور جوان ہوگئے ہیں۔ان کی جسامت ہمارے یہاں کے ہاتھیوں سے تین گنا زیادہ ہے ۔انہیں دیکھ کراچھا بھلا انسان بھی خوفزدہ ہوجاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان میں اتنی جرات نہیں ہے کہ وہاں سے بھاگ سکیں ، کیونکہ پاوں کو لگی زنجیر اب سوچ کو بھی لگ چکی ہے۔

ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ ایسی کئی سوچیں ، نظریات اور افکار ہمارے ذہن کو چمٹے ہوتے ہیں جنہوں نے ہمیں ذہنی غلام بنالیا ہوتا ہے اور ان کی وجہ سے ہم کوئی نیا قدم ، نیا راستہ اور کوئی بڑ افیصلہ نہیں کرسکتے۔

اونچی سوچ نہ ہونے کی وجہ
ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں بڑے سوچنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔کسی کو تھوڑا سا دھکا دے دینا ، کسی کی انگلی تھام لینا ، کسی کے لیے رول ماڈل یامرشد بن جانا یہ بہت ضروری ہے، کیونکہ ایک انسان کی حوصلہ افزائی دوسرے انسان کو کہاں سے کہاں لے جاسکتی ہے۔

اونچا نہ سوچنے کی دوسری وجہ غربت ہے۔ غربت کی دو شکلیں ہیں۔ایک معاشی شکل ، جس کا سامنا تقریباً ہم سب نے کیا ہوتا ہے۔ دوسری شکل ذہنی غربت ہے۔انسان اپنی معاشی غربت توختم کرسکتا ہے لیکن ذہنی غربت ختم کرنا سب سے مشکل کام ہے،کیونکہ یہ اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتی ،اس کو ختم ہونے میں بہت وقت لگتا ہے ۔ایسے لوگ آپ نے بکثرت دیکھے ہوں گے کہ جو باوجود خوش حال ہونے کے بھی پیسے خرچ نہیں کرسکتے، کیونکہ وہ ذہنی غریب ہوتے ہیں۔اللہ نے انسان کوغور وفکر کی صلاحیت دی ہے جس کی بدولت وہ اپنے بارے میں سوچ سکتا ہے۔اپنی کمزوریوں کو ختم کرسکتا ہے اور اپنے لیے اچھا برا راستہ اپنا سکتا ہے ۔

اے معمارِ قوم! آپ کے ذمے بہت بڑاکام لگ چکا ہے. یہ کام نسلوں کی تعمیر اور قوموں کی تربیت کاہے۔آپ ایک مثالی نمونہ بن جائیے ۔آپ خود کو اپ گریڈ کیجیے۔اپنی صلاحیتوں کو پالش کیجیے ۔اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھالیجیے۔اپنا رویہ درست کیجیے اور اپنے شاگردوں کے لیے ایسی مثال بن جائیے کہ وہ خود کو آپ کا شاگرد ہونے پر فخر کرسکیں اور یہ کہہ سکیں کہ آپ نے ان کی سمت تبدیل کی تھی۔

Aqif

You are my inspiration... I have learned one more thing while reading your columns...Allah blesses you sir

LEAVE A REPLY