COLUMNS

Imagine yourself in a thriving and satisfying
career,doing what you love and helping
others to advance personality and
professionally.

YOU MAY ALSO LIKE

اے معمارِ قوم!(قلم کلامی:قاسم علی شاہ) انسان کے وزیٹنگ کارڈ پر ڈاکٹر ، پروفیسر ، چیئر م...

10

NOV

Leadership

By Abid In Columns

لیڈر شپ
(قلم کلامی: قاسم علی شاہ)
قدرت ہر نبی کو قیادت ودیعت کرتی ہے۔ اسے پتا ہوتا ہے کہ ان کے معاشرے پر ان کے اثرات پڑنے ہیں۔ انھوں نے انسانیت کو دینا ہوتا ہے، اور دینے کیلئے قیادت بہت ضروری ہے۔ دنیا میں تین طرح کے قائد ہوتے ہیں۔ پہلی قسم کے قائد پیدائشی قائد ہوتے ہیں۔ اس میں نبی، پیغمبر، اور رسول شامل ہیں۔ دوسرے قائد وہ ہوتے ہیں جو حالات و واقعات سے قائد بنتے ہیں۔ اور تیسرے وہ ہوتے ہیں جو سیکھتے یا کسی سے متاثر ہو کر قائد بنتے ہیں۔

لیڈرشپ میں چار الفاظ ہیں۔
پہلا لفظ لیڈ ہے
دوسرا، لیڈر
تیسرا، لیڈرشپ
اور چوتھا، شپ
اگر ہم ان کے معانی دیکھیں تو لیڈ کرنے کا مطلب ہے، رہنمائی کرنا
دوسرا لیڈر جو رہنما ہوتا ہے۔
تیسرا لیڈرشپ ، کوئی ایسا آلہ ہے جو سمندر میں تیرتا اور چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتا ہے۔
چوتھا لیڈرشپ کا مطلب ہے کہ وہ طریقہ کار جس میں کوئی لیڈر لوگوں کو کسی مقام تک پہنچا دے۔

لیڈرکون؟
جان میکسوئل نے لیڈرشپ پر دنیا میں سب سے زیادہ تحقیق کی ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’اگر آپ کو ترقی کرنی ہے اور آپ سے کہا جائے کہ صرف اپنے اندر ایک صفت پیدا کر لو تو ترقی ممکن ہوجائے گی تو اس صفت کا نام ہے، لیڈر شپ۔‘‘ دنیا کے تمام بڑے لوگ لیڈر ہوتے ہیں۔ جب لیڈرشپ کی بات کی جائے تو یہ ذہن میں رہے کہ لیڈر وہ فرد ہوتا ہے جو دوسرے لوگوں سے ممتاز ہوتا ہے۔ ہر انسان لیڈ نہیں کرسکتا۔ حضرت پیر مہر علی شاہؒ کے ایک بیٹے کا نام ’’باؤ جی‘‘ تھا۔ ان کی عمر نو یا دس سال تھی۔ انگریز نے گولڑہ شریف سے نئی نئی ٹرین چلائی تو باؤ جی روزانہ ٹرین دیکھنے ریل کی پٹری کے پاس چلے جاتے۔ ان کے مریدوں نے باؤجی سے پوچھا، آپ یہاں کیوں آتے ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا، مجھے ٹرین سے محبت ہو گئی ہے۔ مریدوں نے پوچھا، کیوں محبت ہو گئی ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ اس کی پانچ وجوہ ہیں۔ پہلی وجہ، ٹرین کا انجن ٹرین کو منزل تک لے کر جاتاہے؛ دوسری وجہ، آخری ڈبے کو بھی ساتھ لے کر جاتا ہے؛ تیسری وجہ، آگ خود کھاتا ہے، ڈبوں کونہیں کھانی پڑتی؛ چوتھی وجہ، صراطِ مستقیم پر چلتا ہے؛ اورپانچویں وجہ، یہ ڈبوں کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ ڈبے اس کے محتاج ہوتے ہیں۔ آپ فیصلہ کیجیے کہ زندگی انجن کی طرح گزارنی ہے یاڈبے کی طرح گزارنی ہے۔

پاکستان میں سب سے مشکل ٹیسٹ لڑاکا طیارے کے پائلٹ کا ہوتا ہے۔ اس میں پائلٹ کو ایک کیبن میں ڈال کر ہوا کا دباؤ کم کرکے گھمایا جاتا ہے۔ اس میں کئی لوگوں کے کان تک پھٹ جاتے ہیں۔ جو فرد اِس ٹیسٹ میں کامیاب ہوتا ہے، اسے منتخب کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے جس کے ہاتھ میں کروڑوں روپے کا طیار ہ دینا ہے، وہ اتنا قابل ہو کہ وہ اس طیارے کو اڑا سکے۔ پائلٹ کو کہا جاتا ہے کہ اگر کبھی آپشن آئے کہ طیارہ تباہ کرنا ہے یا خود کو بچانا ہے تو تم طیارہ تباہ کر دینا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تم اس سے کئی گنا مہنگے ہو۔۔۔کیونکہ تم لیڈر ہو۔ ہمارے معاشرے کو ڈاکٹر بہت ملے، انجینئر بہت ملے، سائنس داں بہت ملے، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بہت ملے، آفیسرز بہت ملے، مگر لیڈر نہیں ملے۔ تربیت ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے اور وہیں سے لیڈر پیدا ہوتے ہیں، مگر یہاں بچے پیدا ہوتے ہیں، لیڈر نہیں۔ جس گھر میں، نظام میں اور جس ادارے میں لیڈر موجود ہوتا ہے، وہ خوب ترقی کرتا ہے۔

ایک دفعہ 1946ء میں قائداعظمؒ کے پاس پشاور یونیورسٹی کے دس طلبہ ملنے آئے۔ اسسٹنٹ نے انھیں آپ کے پاس بٹھایا۔ آپؒ نے بچوں سے پوچھا، تم کیسے آئے ہو؟ انھوں نے جواب دیا، سائیکلوں پر آئے ہیں۔ آپؒ نے پوچھا، کتنوں کی سائیکلوں میں لائٹ لگی ہوئی ہے؟ انھوں نے جواب دیا، ہم نے تو کوئی لائٹ نہیں لگائی۔ آپؒ نے ان سے کہا، ’’تم میں سے ایک بھی میرے ملک میں جانے کے قابل نہیں ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ قانون تھا کہ سائیکل میں لائٹ لگی ہو۔ ایک بچے نے کہا، سر! یہ گورے کا قانون ہے۔ آپؒ نے فرمایا، ’’قانون تو قانون ہوتا ہے۔‘‘ آپؒ اتنے چھوٹے قانون کا بھی احترام کرتے تھے۔ یہ تھا اُن کا ویژن۔ آج جو ملک ترقی کر رہے ہیں وہ اپنے لیڈروں کی وجہ سے ترقی کر رہے ہیں۔ آدمی اگر اپنی آخرت دیکھ لے تو اسے سمجھ آ جاتی ہے کہ یہاں بڑے بڑے آئے اور چھوڑ کر چلے گئے۔ میری کیا اوقات ہے۔ رہے نام اللہ کا!

اگر آپ کا عمل دوسرے کوبڑا خواب دیکھنے، سیکھنے اور کچھ کرگزرنے، کچھ بن جانے کیلئے متاثر کرتا ہے تو پھر آپ لیڈر ہیں۔ زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے لوگ بڑے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگ لیڈر ہوتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہی نوازنا ہے تو پھر آپ کیوں چھوٹا سوچتے ہیں۔ وہ ایسا مالک ہے کہ اگر آپ نہیں مانگتے تو وہ ناراض ہوتا ہے۔

دنیا میں پروفیشن کے لحاظ سے شخصیت کی 13 قسمیں ہیں اور13 قسم کے ہی لیڈر ہیں۔ ان میں کوئی آرٹ اینڈ کلچر میں لیڈرہوتا ہے، کوئی آئی ٹی میں لیڈر ہوتا ہے،کوئی سیاست میں لیڈر ہوتاہے، کوئی لکھنے میں لیڈر ہوتا ہے، کوئی کھیل میں لیڈر ہوتا ہے۔ لیڈر وہ ہوتا جس میں قائدانہ خصوصیا ت موجود ہوتی ہیں۔ وہ کہیں پر بھی ہو، وہ کرتا ہے۔ آپ کو کبھی خاندان کے فنکشن میں اکٹھا ہونے کا موقع ملے تو آپ اپنے بچوں کو چھوڑ دیں۔ تھو ڑی دیر بعد آپ کو پتا چل جائے گا کہ کو ن لیڈر ہے۔ سارے بچے جس بچے کی بات ماننا شروع کردیتے ہیں، وہ بچہ لیڈر ہوتا ہے۔

لیڈر کی خصوصیات
ماہرین نے لیڈر یا قائد کی درج ذیل خصوصیات بیان کی ہیں:

ویژن
جوفرد آج میں بیٹھ کر آنے والے زمانے کو دیکھ لے، وہ لیڈر ہوتا ہے۔ سیب کو دیکھنا بڑی بات نہیں ہے۔ سیب کے اندر درختوں کو دیکھنا بڑی بات ہوتی ہے، کیونکہ ایک سیب میں کتنے بیج ہیں اور بیجوں میں کتنے درخت ہیں اور ان درختوں میں کتنے سیب ہیں۔۔۔ لامحدود۔ شیخ سعدی شیرازیؒ گھر میں تشریف فرما تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ آپؒ نے دروازہ کھولا تو سامنے اَسی سال کا اندھابھکاری کھڑا رو رہا تھا۔ شیخ نے پوچھا، کچھ چاہیے؟ اس نے کہا، نہیں میں ایک سوال لے کر آیا ہوں۔ کیا مجھ سے زیادہ بدقسمت اور کوئی ہوگا؟ آپؒ نے پوچھا، ’’کس بات کی بدقسمتی؟‘‘ اس نے کہا، ’’میرے پاس آنکھیں نہیں ہیں، بصارت سے محروم ہوں، اسی سال میری عمر ہے۔ میں نے دنیانھیں دیکھی۔ مجھ سے بڑا بدقسمت اور کون ہوگا؟‘‘ شیخ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، ’’تجھ سے بڑا بدقسمت وہ ہے جس کے پاس بصارت ہے، مگر بصیرت نہیں ہے۔‘‘
مسلمان مومن کے پاس ویژن ہوتا ہے۔ اس کو اپنی منزل جنت نظر آ رہی ہوتی ہے۔ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو قد م اٹھاتے ہیں، انھیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ اس کا انجام کیا ہے۔ دو چیزوں کے پہرے دار بنیں۔ ایک سوچ اور ایک عمل۔ سوچ پہلے ہے اور عمل بعد میں ہے۔ جو آدمی اپنی سوچ اور عمل کا پہرے دار ہے، وہ ویژن والا انسان ہے۔
ویژن کیلئے تعلیم ضرور ی نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کرم سے ہوتا ہے۔ سوچ اور سنگت سے ہوتا ہے۔ جب آپ کی زندگی میں ویژن ہوتا ہے تو آپ قدم اٹھاتے ہوئے سوچتے ہیں۔ رنجیت سنگھ کی مجلس مشاورت میں جرنیل ونچورا شامل تھا۔ رنجیت سنگھ نے ونچورا سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ سکھ قوم محتاج نہ ہو۔ اس نے جواب دیا، ’’فقط عورت کیلئے تعلیم لازم کر دو اور یہ نانیوں دادیوں سے لے کر چھوٹی بچیوں تک لازم کر دو۔‘‘ رنجیت سنگھ نے پوچھا، ’’اور مرد؟‘‘ ونچور ا نے جواب دیا، ’’ان کی خیر ہے۔ تمہاری نسل میں محتاج پیدا ہونا بند ہوجائیں گے۔‘‘ اس کے بعد رنجیت سنگھ نے تعلیم لازم کر دی اور آج اس قوم میں بھکاری نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر آپ نے اپنی نسل میں خودداری اور علم حاصل کرنے کا شوق پیدا کرد یا تو پھر آپ کی نسل میں بھکاری پیدا نہیں ہوگا۔چیتا 122 کلومیڑ فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتا ہے، مگر وہ صرف تین منٹ بعد ہی تھک جاتا ہے۔ اسی وجہ سے چیتا سکون سے بیٹھ کر اپنے شکار کو دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ میں نے کون سے ہرن کا شکار کرنا ہے۔ پھر وہ پورے ویژن کے ساتھ حملہ کرتا ہے۔ زندگی میں جو کچھ کیجیے، ویژن کے ساتھ کیجیے۔ جب آپ ویژن کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں تو پھر کسی چیز کو چھوڑنا اور پکڑنا آسان ہوتا ہے۔

جوڑنے والا
لوگوں نے حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے ہاتھ میں کبھی قینچی نہیں دیکھی۔ ہمیشہ سوئی دھاگا ہی رہتا تھا۔ کسی نے بابا جی سے پوچھا، آپ کے ہاتھ میں کبھی قینچی نہیں دیکھی۔ آپؒ نے فرمایا، جو کاٹتی ہے، میں اسے نہیں پکڑتا؛ جو جوڑتی ہے، میں وہ پکڑتا ہوں۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو جوڑتا ہے۔ اپنے اندر جوڑنے والی صفت پیدا کیجیے۔

رول ماڈل
لیڈر، رول ماڈل ہوتا ہے۔ اسے سچا اور کھرا ہونا چاہیے۔ وہ قابل اعتبار ہو۔ جو لوگ قابل اعتبا ر نہیں ہوتے، وہ لیڈر نہیں ہوتے۔ اگر آپ کی کامیابی اور علم کے شاہد آپ کے اپنے لوگ ہیں تو پھر آپ سچے انسان ہیں، آپ لیڈر ہیں۔

خوداعتمادی
دنیا کے تمام بڑے لوگوں کو اپنے آپ پر اعتماد ہوتا ہے۔ آپ کا خود پر اعتماد آپ کے کام کو آگے لے کر جاتا ہے۔ خود اعتمادی بڑھانے کیلئے سب سے پہلے آپ اپنا علم بڑھائیے۔ خودکو جانئے۔ زمانے کو جانئے۔ علم اس کے پاس ہوتا ہے جو زمانے کے علم کو جانتا ہے۔ جس نے سب چیزوں کو پرکھا ہوا ہوتا ہے۔جس کے پاس جتنا بہتر کردار ہوگا، اس میں اتنا ہی اعتماد ہو گا۔کنفیوژن سے آزادی آپ میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔ اپنے اور اپنے بچوں میں سیدھی اور صاف بات کرنے کی عادت ڈالیے۔ اس سے خوداعتمادی ملے گی۔جو آدمی اپنے مسئلے خود حل کر لیتا ہے، اپنے فیصلے خود کرسکتا ہے، وہ ذہین ہوتا ہے۔ ذہین آدمی میں زیادہ اعتماد ہوتا ہے۔

کیس اسٹڈی
2006ء کی بات ہے۔ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں ایم ایس سی کی کلاس تھی۔ اس میں بہت سے بچے زیر تعلیم تھے۔ ان میں چار بچوں کی کہانی:
پہلابچہ: بہت زیادہ لائق تھا اور ہر کلاس میں فرسٹ آتا تھا۔ وہ گولڈ میڈل لیتا تھا۔

ددسرا بچہ : کلاس میں پیچھے بیٹھتا تھا۔ وہ صحیح طرح کے کپڑے بھی نہیں پہنتا تھا۔ وہ پڑھائی میں اتنا سنجیدہ نہیں تھا۔ باؤلا سا تھا۔

تیسرا بچہ: کلاس کا سب سے شرارتی بچہ تھا۔ وہ ساٹھ فیصد یا اس سے کچھ زیادہ نمبر لیتا تھا۔ یہ بڑا شوخ سا تھا۔ جب کسی وجہ سے استاد کلاس نہیں پڑھاتا تو یہ کلاس پڑھا دیا کرتا تھا۔ جب یہ اپنے کلاس فیلوز کو کہیں لے کر جانا چاہتا تو سارے بچے اس کے پیچھے چل پڑتے۔

چوتھا بچہ: جب بھی کلاس میں کوئی مسئلہ ہوتا تھا، آگے کھڑا ہو کر اپنی کلاس کو پیچھے لگا کر پرنسپل کے پاس چلا جاتا تھا۔
تعلیم حاصل کرنے کے بعدکچھ سال بعد کی ان کی زندگی کچھ یوں تھی:
پہلا بچہ: تعلیم مکمل کرنے کے بعد کسی اچھے ادارے میں ساٹھ ہزار سے زائد پر نوکر ی کر رہا تھا۔
دوسرا بچہ: عام سی زندگی گزار رہا تھا۔
تیسرا بچہ: تعلیم مکمل کرنے کے بعد کسی بہت اچھے ادارے میں بارہ لاکھ روپے سے زائد نوکری کر رہا تھا۔ وہ اپنی کمپنی میں کنٹری ہیڈ تھا۔
چوتھا بچہ: تعلیم مکمل کرنے کے بعد کسی تھانے میں اے آئی ایس بھرتی ہو گیا۔
پہلے بچے میں تعلیمی قابلیت تو بہت اچھی تھی، مگر اس میں اعتماد، بات چیت ، وسائل کا استعمال اور لیڈر شپ کی کمی تھی۔ اس لیے وہ زیادہ ترقی نہیں کرسکا۔ دوسرا بچہ زندگی کے کسی بھی معاملے میں سنجید ہ نہیں تھا۔ اس لیے کچھ بن نہیں سکا۔ تیسرے بچے میں اعتماد تھا اور اعتماد آگے بڑھنے کیلئے بہت ضرور ی ہے۔ دوسری خوبی اس میں یہ تھی کہ اسے بات چیت کرنا آتی تھی۔ اس میں تیسری خوبی یہ تھی کہ اسے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے کام کرنا آتا تھا۔ جو آدمی اپنے وسائل میں رہتے ہوئے کام کر لیتا ہے، وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں لیڈرشپ تھی۔ کنٹری ہیڈ ہمیشہ لیڈر ہوتا ہے۔ کمپنی کبھی ایسے شخص کو جو گونگا ہو، کنڑی ہیڈ نہیں لگائے گی۔ جبکہ چو تھے بچے کو مسئلے مسائل حل کرنے کا بہت شوق تھا، لہٰذااس نے زندگی میں اسی حساب سے ترقی کی۔
آپ ان چاروں میں کہاں ہیں؟

LEAVE A REPLY